اہم خبر

نئے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو مشرق وسطیٰ میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

’دوستوں، یہ وقت ٹسیٹ کروانے کا ہے۔‘ گذشتہ بدھ کو یہ الفاط تھے امریکہ کے نئے صدر کے جب انھوں نے حلف اٹھانے کے بعد امریکہ کو درپیش امتحانات کا ذکر کرتے ہوئے دنیا میں امریکہ کی اہمیت پر اپنی تقریر ختم کی۔

امریکہ کو درپیش امتحانات میں سب سے کٹھن مسائل مشرق وسطیٰ سے متعلق ہیں۔

جو بائیڈن کی ٹیم میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سابق صدر اوباما کی انتظامیہ میں شامل تھے۔ یہ لوگ اب نئے احکامات کے ساتھ ان ہی دیرینہ مسائل کو دیکھیں گے جو ماضی میں ان کی ذمہ داریوں میں شامل رہے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا امتحان یہ ہو گا کہ انھیں اُن ہی پالیسیوں کو ٹھیک کرکے آگے بڑھنا ہو گا جو انھوں نے ہی بنائی تھیں، لیکن گذشتہ چار سال کی کجروی کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی ہیں۔

لیکن ان میں سےکچھ لوگوں کو اس صورت حال میں مواقع اور آگے جانے کے راستے نظر آ تے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران کی مخاصمت پر ایک کتاب کی مصنف اور ’کارنیگی اینڈؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے منسلک کم گھیٹاس کہتی ہیں کہ مشرق وسطی میں اوباما انتظامیہ سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں اس کا ان لوگوں کو اچھی طرح علم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ممکن ہے اب یہ لوگ معاملات کو مختلف سمت میں لے کر جائیں کیونکہ وہ غلطیوں سے سیکھ چکے ہیں اور آج خطے کے حالات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہیں۔

انٹونی بلکن
،تصویر کا کیپشنانٹونی بلکن نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے سے قبل اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے

نئی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی فائلوں میں سب سے اوپر یقیناً ایران کی فائل ہو گی۔ سنہ 2015 کا تاریخی جوہری معاہدے جو بین الاقوامی طاقتوں نے مشترکہ طور پر طے کیا تھا، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یک طرفہ اعلان کے بعد اب ایک نازک دھاگے سے ہوا میں معلق ہے۔

یمن میں ایک ہولناک جنگ جاری ہے جس کی ابتدا میں حمایت اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ معاہدے پر سعودی عرب کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کی تھی۔

سابق صدر ٹرمپ نے مئی سنہ 2017 میں اپنی مدت صدارت کا آغاز سعودی عرب کے دورے سے کیا تھا جہاں انھوں نے امریکی کی تاریخ کے سب سے بڑے 110 ارب ڈالر کے دفاعی سودا کیا تھا۔

اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب سے غیر متزلزل وفاداری اور ایران پر انتہائی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رہی۔

اس سے خلیج میں عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان روابط کی راہ ہموار ہوئی۔

ولی عہد شہزادہ سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ

خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والے جریدے نیوز لائن میگزین کے مدیر حسن حسن کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ میں شامل تجربہ کار لوگوں کی ایک مرتبہ پھر سرگرمی سے سفارت کاری کی خطے کو اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’عرب ریاستوں کا خیال تھا کہ امریکہ کی عدم دلچسپی سے وہ خطے کا سیاسی نقشہ خود سے تبدیل کر دیں گے لیکن لیبیا، یمن، ایران اور حتی کہ چھوٹے سے ہمسائے ملک قطر کے معاملات میں بھی انھیں اپنی محدود صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔ نئی انتظامیہ کی گفتگو میں پرانے روایتی اتحادیوں سے روابط بہتر کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔‘

بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے وزیر خارجہ کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے اینٹونی بلکن نے اپنی نامزدگی کی توثیق کے لیے سینیٹ میں چار گھنٹے طویل سماعت میں کہا کہ ’یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں بشمول اسرائیل اور خلیج ممالک سے روابط کو اڑان بھرنے کی کیفیت میں لے کر جائیں، نہ کہ زمین پر اترنے کی طرف۔

بیلکن جو ایک عرصے تک بائیڈن اور اوباما کے مشیر رہے ہیں، اُن کا اصرار ہے کہ ایران کو ایک نئے معاہدے سے خطے میں ’عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں اور بلاسٹک میزائل بنانے کے پروگرام سے باز رکھا جا سکتا ہے۔

یہ دونوں معاملات ایسے ہیں جن پر یورپی طاقتوں کو بھی تشویش ہے۔

یمن

جو بائیڈن انتظامیہ یہ نہیں چاہے گی کہ وہ سنہ 2015 میں ہونے والا ایک ایسا معاہدہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دے جس کو بین الاقوامی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔

یورپی کونسل آف فارن ریلیشن میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایلی جیرنمایا کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ بائیڈن انتظامیہ میں خارجہ پالیسی، جوہری ہتھیاروں کی تخفیف اور خزانہ کے کلیدی عہدوں پر کی جانے والی نامزدیوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ ان میں اکثر ایسے لوگ شامل ہیں جو جوہری مذاکرات اور ایران سے ہونے والے معاہدے پر عملدر آمد کے معاملات میں شریک رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بائیڈن اور ایرانی رہنماؤں میں ایک قدر مشترک یہ ہے دونوں چاہتے ہیں کہ فریقین معاہدے کی مکمل پاسداری کریں اور انھیں اس بارے میں طریقہ کار جلد از جلد طے کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں ایک خصوصی سفیر کی تعیناتی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔‘

جب سے واشنگٹن جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر علیحدہ ہوا ہے ایران آہستہ آہستہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کی اپنی یقین دہانیوں سے پیحھے ہٹتا جا رہا ہے۔

حال ہی میں ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی کی سطح 20 فیصد تک لے جانے کے اعلان سے امریکہ اور یورپی ملکوں سے اس کے تعلقات میں تناؤ بڑھا گیا ہے۔

ایران کی قیادت کئی مرتبہ اس بات اعادہ کر چکی ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کی پاسداری کرنے لگے گی اگر امریکہ بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے لگے۔

لیکن گذشتہ چار سال کی صورت حال سے شکوک و شبہات کو تقویت ملی ہے اور ایران کے اندر مغرب سے معاملات طے کرنے کی مخالفت بڑھی ہے۔

ایران

امریکہ میں نئی انتظامیہ کی اندرون ملک جوابدہی بھی بڑھے گی۔ امریکہ میں نو منتخب کانگریس جس میں خارجہ پالیسی کا تجربہ رکھنے والے بہت سے ارکان شامل ہیں وہ پہلے ہی ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ وہ خارجہ پالیسی میں زیادہ عمل دخل چاہتے ہیں۔

مشرق وسطی میں اس کا مطلب ہو گا کہ وہ سارے معاملات پر بات کریں گے جن میں ایران کے ساتھ معاہدے کی ہر چیز، یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی معاونت کو ختم کرنا، عرب اور اسرائیل کے درمیان معمول کے تعلقات، سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال جس میں مخالفین کو قید میں رکھنے اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل کا معاملہ بھی شامل ہے۔

جو بائیڈن کی طرف سے ڈائریکٹر آف نینشل انٹیلی جنس مقرر کی جانے والی ایورل ہینز سے سینیٹ کے سامنے ان کی نامزدگی کی سماعت میں جب پوچھا گیا کہ کیا وہ سابق صدر ٹرمپ کی حکومت کے دوران ہونے والی لاقانونیت کو ختم کریں گی اور کانگریس کے سامنے وہ خفیہ رپورٹ پیش کریں گی جو سنہ 2018 میں استنبول کے سعودی عرب کے سفارت خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں تھی، تو ایورل ہینز کا جواب تھا ‘ہاں سینیٹرز، بالکل۔ ہم قانون کی پاسداری کریں گے۔’

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں خفیہ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے کافی حد تک یقین سے یہ کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔ محمد بن سلمان اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے مصنف اور تجزیہ کار علی شیبابی کا کہنا ہے امریکیوں کو شک کا فائدہ دینا ہو گا کیونکہ اس معاملے میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہیے وہ سی آئی اے ہو یا امریکی وزارت خارجہ یا وزارت دفاع، اس حقیقت کا سب کو ادراک ہے کہ سعودی عرب خطے میں کچھ بھی کرنے کے لیے انتہائی اہم ملک ہے۔

بہت سی مشترکہ ترجیحات ہیں، جن میں یمن میں ہولناک جنگ کو ختم کرنا۔ لیکن خطے کے بہت سے دیگر معاملات کی طرح کوئی آسان راستہ دستیاب نہیں ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار پیٹر سالسبری کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی اتنا سادہ معاملہ نہیں کہ صرف سعودی عرب کے لیے امریکی دفاعی امداد کو بند کر دیا جائے۔‘

یمن

انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ امن چاہتا ہے تو اس کو سفارتکاری میں بہت سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا۔

سفارتکاری میں بہت سی مشکلات پیش آئیں گی، خاص کر اس وجہ سے کہ بائیڈن انتظامیہ نے انسانی حقوق کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہوا ہے۔

اس سے مذاکرات ہر جگہ مشکل ہو جائیں گے۔ چاہے وہ ریاض کے ساتھ ہوں، تہران کے ساتھ یا قاہرہ یا اور کسی جگہ۔

بہت سے لوگ بہت توقع اور بے چینی سے یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کسی حد تک ان دعوؤں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ ان تمام ترنئی پالیسیوں کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ پرانی پالیسیوں پر ہی استوار کی جائیں گی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ’ابراہیم ایکارڈ‘ کی تعریف بھی ہو رہی ہے جس کے تحت کئی عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات استوار کیے گئے ہیں۔

لیکن نامزد وزیر خارجہ بیلکن نے کہا ہے کہ وہ ان معاہدوں میں کیے گئے کچھ وعدوں پر نظر ثانی کریں گے۔

ان میں متحدہ عرب امارات کو جدید ترین جنگی طیاروں اور اسلحے کی فروخت کے معاملے سے لے کر مراکش کی مغربی صحارا کے متازع علاقے پر خود مختاری کو تسلیم کرنے جیسے وعدے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عراق، لیبیا، شام، لبنان اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی سرگرمیوں سمیت بہت سے دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔

کم گھیٹاس کا کہنا ہے ’میرے خیال میں یہ ایک موقع ہے۔ یہ سب کچھ کرنا بہت مشکل ہو گا لیکن یہ موقع ہے امریکہ کے لیے کہ وہ دنیا میں اپنے کردار کے بارے میں سوچے اور مشرق وسطی کے بارے میں بھی نئی سوچ مرتب کرے۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button